Welcome
Login

ٹیکساس عدالت، کشمیریوں نے مودی کی طلبی کرادی

 

مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکا کی عدالت نے بھارتی وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو طلب کرلیا۔

 

ذرائع ابلاغ سے جاری خبروں کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس کی عدالت میں کشمیری رہنماؤں کی جانب سے اپیل دائر کی گئی تھیں۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بھارتی قابض فوج کی جانب سے وادی میں لوگوں کو زبردستی گرفتار کرکے غائب کیا جا رہا ہے، 46 روز سے نافذ کرفیو کے باعث گھروں میں دوائیں اور کھانے پینے کی اشیا ختم ہوگئی ہیں۔

واضح رہے کہ 22 ستمبر کو امریکی شہر ہیوسٹن میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اعزاز میں بڑی تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے، کشمیری رہنماؤں کی جانب سے دائر درخواست 72 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں امیت شاہ اور بھارتی فوج کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل کنول جیت سنگھ کو بھی طلبی کے سمن جاری کیے گئے ہیں۔

یہ مقدمہ امریکا میں ایک قانون کے تحت درج کیا گیا ہے جس کے مطابق دنیا میں امریکی شہری کے کسی رشتہ دار پر کہیں بھی تشدد کیا جائے تو امریکی شہری اس قانون کے تحت کارروائی کرسکتا ہے۔ یہ مقدمہ ایک کشمیری مرد اور خاتون کی طرف سے کیا گیا ہے، جن کے نام خفیہ رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہمارے اہل خانہ کو مقبوضہ کشمیر میں ٹارچر کیا گیا ہے، والد کو اغوا کیا گیا اور وہ کرفیو کے نافذ ہونے کے دن سے غائب ہیں، جب کہ دوسری درخواست میں کہا گیا کہ دوا نہ ملنے کے باعث رشتہ دار کا انتقال ہوگیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس سمن پر کوئی گرفتاری نہیں ہوسکتی تاہم مقدمہ چل سکتا ہے۔ مدعیوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں عدالت کو تفصیل سے آگاہ کیا۔

این آر جی اسٹیڈیم میں ہونے والی اس تقریب میں 50، ہزار افراد کی آمد متوقع ہے، جب کہ 300 ملین افراد براہ راست اس تقریب کو دیکھ سکیں گے۔

 


Post your comment

Comments

Be the first to comment

Related Articles

RSS